اسلام آباد سے تقریباً ایک سو پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع نوشہرہ، اکوڑہ خٹک جانا ہوا۔ اس سفر کا مقصد ایک علمی و تحقیقی مکتبہ کو قریب سے دیکھنا اور اپنے تعلیمی ادارے کے لیے رہنمائی حاصل کرنا تھا۔مولانا فیض الرحمن حقانی صاحب جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے استاذ الحدیث اور ایک ممتاز محقق و جید عالم ہیں۔ آپ کئی اہم عربی تصانیف اور تحقیقی کتب کے مصنف ہیں۔ عرب و عجم کے علمی حلقوں میں آپ کے نام سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو۔ ان سے میرا مختلف امور پر واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ رہتا ہے اور کئی علمی و تحقیقی حوالوں سے ان سے مشورے لیتا رہا ہوں۔
مولانا حقانی صاحب نے نوشہرہ میں جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے کچھ فاصلے پر المکتبۃ الذہبیہ کے نام سے ایک شاندار مکتبہ اور لائبریری قائم کی ہے۔ ایک عرصے سے خواہش تھی کہ اس ادارے کا وزٹ کروں، لیکن مصروفیات کی وجہ سے تاخیر ہوتی رہی۔ چونکہ میرا اپنا ارادہ اسلام آباد میں ایک مختصر سا ادارہ بنانے کا ہے (جس میں بالخصوص دارالافتاء اور تخصص فی الافتاء کا شعبہ قائم کیا جائے) لہٰذا اس حوالے سے ایسے مکتبوں یا تحقیقی اداروں کا وزٹ کرکے اور بانی سے مشورے کے کر ان سے استفادہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔
اپنے ادارے کے لیے چھوٹی سی جگہ خریدنے کے بعد میرے ذہن میں کئی باتیں تھیں کہ ادارے میں کن کن چیزوں کو شامل کیا جائے، لیکن ایک بات طے تھی کہ تعمیر کے آغاز سے پہلے چند اداروں اور کتب خانوں کا وزٹ ضرور کروں گا تاکہ ان کے انتظام، نقشے، پلاننگ اور ترتیب کو دیکھ سکوں، اہم باتیں نوٹ کرسکوں اور اصحابِ علم سے مشورے لے سکوں۔
اسی سلسلے کی پہلی کڑی المکتبۃ الذہبیہ کا سفر تھا۔ میں اپنے ساتھی (مولانا مختیار اللہ صاحب) کے ہمراہ مولانا فیض الرحمن حقانی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے نہایت شفقت کے ساتھ پورے ادارے کا وزٹ کروایا اور بے شمار قیمتی نصیحتوں اور مشوروں سے نوازا۔ آپ نے بلڈنگ کے ڈیزائن، انتظام، کتابوں کی ترتیب اور ریسرچ کے شعبوں سے متعلق اپنی عملی تجاویز بیان کیں، اور کئی علمی نکات پر بھی روشنی ڈالی۔ میں نے یہ سب کچھ اپنی ڈائری میں باقاعدہ نوٹ کیا تاکہ اپنے ادارے کی تعمیر میں ان سے استفادہ کیا جاسکے۔
یہ مکتبہ دراصل مولانا حقانی صاحب کے عمدہ ذوق کا شاہکار ہے۔ اس کا افتتاح اکتوبر 2024ء میں بحرین کے مشہور محدث و محقق شیخ نظام یعقوبی نے کیا تھا۔ لائبریری کے ہر گوشے سے حسنِ ترتیب اور حسنِ انتظام جھلکتا تھا۔ بیسمنٹ سے لے کر کانفرنس ہال تک، کتابوں کی الماریوں سے ریسرچ ڈیسک تک، ہر چیز میں تہذیب، شائستگی اور حسنِ سلیقہ، پختگی اور عمدگی نمایاں تھی۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اکوڑہ خٹک جیسے نسبتاً دورافتادہ علاقے میں اس معیار کی ایک عظیم علمی و تحقیقی لائبریری قائم کی گئی ہے۔ یہ سب اخلاص کی برکتیں ہیں۔
شیخ سے قیمتی مشورے لینے کے بعد ہم نے اجازت چاہی اور پھر جامعہ دارالعلوم حقانیہ کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ میرا جامعہ حقانیہ کا پہلا سفر تھا۔ وقت کم ہونے کی وجہ سے تفصیل سے رکنا ممکن نہ تھا، چند علماء اور دوستوں سے ملاقات ہی ہوسکی۔ جامعہ کی نئی مسجد، دارالحدیث، مکتبہ اور لائبریری کو بھی مختصر طور پر دیکھا۔ بزرگوں سے دعائیں لی، آخر میں شیخ عبد الحق رحمہ اللہ، ان کے فرزند شہیدِ اسلام مولانا سمیع الحق رحمہ اللہ، اور ان کے فرزند مولانا حامد الحق شہید رحمہ اللہ کی قبور پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔
یہ سفر کئی حوالوں سے بہت اہم اور بابرکت رہا۔ المکتبۃ الذہبیہ میں حاصل ہونے والے مشاہدات اور علمی نکات، جامعہ حقانیہ کے مشاہدات اور اکابرین سے دعاؤں کا سرمایہ، سب کچھ میرے لیے آئندہ ادارے کی تعمیر اور اس کے قیام میں ان شاء اللہ مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ اپنے تعلیمی و تحقیقی منصوبے کو مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!