(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناسمیع اللہ عزیز

مولاناسمیع اللہ عزیز

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/24
موضوعات
عربیت،تلاش بہت، تسلسل کہاں ؟
آج ہم ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں علم ہماری انگلیوں کی پوروں پر موجود ہے۔ سوشل میڈیا نے دنیا بھر کے اساتذہ، اداروں، کتابوں، دروس اور تعلیمی وسائل تک رسائی آسان بنا دی ہے۔ چند لمحوں میں ایک لیکچر سامنے آتا ہے، پھر کسی دوسرے استاد کی ویڈیو، کسی تیسرے کا کورس اور کسی چوتھے کی تحریر۔ بظاہر یہ صورتِ حال طالب علم کے لیے ایک بڑی نعمت ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ یکسوئی، انتخاب اور تسلسل نہ ہو تو یہی فراوانی انسان کو علم کے بجائے انتشار دے دیتی ہے۔

عربی زبان سیکھنے والے بہت سے طلبہ و طالبات آج اسی کیفیت سے دوچار ہیں۔ ایک چیز شروع کی، چند دن اس کے ساتھ چلے، پھر کوئی نئی اور بظاہر بہتر چیز سامنے آگئی تو پہلی کو چھوڑ کر دوسری کے پیچھے چل پڑے۔ پھر تیسری چیز نظر آئی تو دوسری بھی چھوٹ گئی۔ یوں تلاش کا سفر تو جاری رہتا ہے، مگر سیکھنے کا سفر آگے نہیں بڑھتا۔

اصل سوال یہ ہے کہ تلاش بہت ہے، لیکن تسلسل کہاں ہے؟
زبان کوئی ایسی چیز نہیں جو صرف معلومات جمع کر لینے سے آ جائے۔ عربی سیکھنے کے لیے وقت دینا پڑتا ہے، بار بار پڑھنا پڑتا ہے، سننا پڑتا ہے، بولنا پڑتا ہے، لکھنا پڑتا ہے، غلطیاں کرنی پڑتی ہیں، اصلاح قبول کرنی پڑتی ہے اور ایک مناسب طریقۂ تعلیم کے ساتھ طویل عرصے تک جڑے رہنا پڑتا ہے۔ ہر چند دن بعد استاد، کتاب، کورس یا طریقہ بدلنے سے عموماً علم میں گہرائی پیدا نہیں ہوتی؛ انسان صرف نئے آغاز کرنے کا عادی بن جاتا ہے۔

استاد صرف وہ نہیں جس کے سامنے بیٹھا جائے:
ہمارے ہاں استاد کے تصور کو بھی وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض طلبہ یہ سمجھتے ہیں کہ استاد صرف وہ شخص ہے جس کے سامنے بیٹھ کر انہوں نے سبق پڑھا ہو۔ حالاں کہ آج تعلیم کے ذرائع بہت وسیع ہیں۔ جس استاد کی تحریروں سے ہم فائدہ اٹھاتے ہیں، جس کی کتاب پڑھتے ہیں، جس کے آن لائن دروس سنتے ہیں، جس کی ویڈیوز سے زبان سیکھتے ہیں، جس کے علمی کام سے ہماری فکری یا لسانی تربیت ہوتی ہے، وہ بھی ہمارے لیے استاد ہی کی ایک صورت ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص کو باقاعدہ استاد کا درجہ دے دیا جائے یا ہر علمی رائے سے اتفاق کیا جائے۔ اختلاف اپنی جگہ، تنقید اپنی جگہ، لیکن علم سے فائدہ اٹھانے والے طالب علم کے اندر احترام، حسنِ ظن اور علمی شائستگی ضرور ہونی چاہیے۔جس سے ہم نے کچھ سیکھا ہے، کم از کم اس کے علم اور محنت کا اعتراف تو ہونا چاہیے۔

وابستگی صرف گروپ میں موجود رہنے کا نام نہیں:
آج بہت سے تعلیمی گروپس اور ادارے قائم ہیں۔ طلبہ ان میں شامل ہوتے ہیں، تحریریں پڑھتے ہیں، دروس سنتے ہیں، مواد محفوظ کرتے ہیں اور بسا اوقات برسوں تک کسی پلیٹ فارم سے وابستہ رہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف کسی گروپ میں موجود رہنا تعلیم حاصل کرنا ہے؟اگر کوئی طالب علم کسی ادارے کے ساتھ برسوں وابستہ رہے مگر باقاعدگی سے مطالعہ نہ کرے، مشق نہ کرے، سوال نہ کرے، اپنی اصلاح نہ کروائے اور اپنے لیے کوئی عملی معمول نہ بنائے تو محض وابستگی اسے ماہر نہیں بنا سکتی اور پھر ایک وقت آتا ہے جب وہ اپنے ساتھ شروع کرنے والے دوسرے لوگوں کو آگے بڑھا ہوا دیکھتا ہے۔ تب وہ یہ کہنے لگتا ہے کہ استاد کا طریقہ اچھا نہیں تھا، ادارے سے فائدہ نہیں ہوا یا نظام ہی درست نہیں تھا۔ایسے موقع پر دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے انسان کو ایک سوال اپنے آپ سے بھی کرنا چاہیے:

کیا میں نے واقعی اس نظام سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی طرف سے پوری محنت کی تھی؟

استاد راستہ دکھاتا ہے، لیکن راستے پر چلنا طالب علم کی ذمہ داری ہے۔

صرف یہ نہ سوچیں کہ ہمیں کیا ملا، یہ بھی سوچیں کہ ہم نے کیا دیا۔یہاں ایک اور نہایت اہم پہلو ہے جس پر ہمارے تعلیمی ماحول میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ ہمیں استاد سے کیا ملا؟ ہمیں ادارے سے کیا ملا؟ ہمیں اس پلیٹ فارم سے کیا فائدہ ہوا؟ ہمیں کتنی سہولت ملی؟ لیکن ایک سنجیدہ طالب علم کو کبھی کبھی یہ سوال بھی اپنے سامنے رکھنا چاہیے: میں نے اس استاد، اس ادارے یا اس علمی نظام کو دیا کیا ہے؟

علم کا پورا نظام صرف لینے سے نہیں چلتا۔ کسی نے وقت دیا، کسی نے علم دیا، کسی نے کتاب لکھی، کسی نے مواد تیار کیا، کسی نے انتظام سنبھالا، کسی نے اپنا سرمایہ اور وسائل لگائے، کسی نے کئی گھنٹے طلبہ کی رہنمائی میں صرف کیے۔ اگر ہم ان سب سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تو ہماری بھی کوئی ذمہ داری بنتی ہے۔

یہ ’’دینا‘‘ صرف مالی تعاون کا نام نہیں۔کسی اچھی تحریر پر سنجیدہ تبصرہ کرنا بھی تعاون ہے۔اپنی مفید رائے دینا بھی تعاون ہے۔کسی غلطی کی مہذب انداز میں نشان دہی کرنا بھی تعاون ہے۔دوسروں تک مفید علمی مواد پہنچانا بھی تعاون ہے۔استاد اور ادارے کے لیے دعا اور حوصلہ افزائی بھی تعاون ہے۔اور اگر کسی ادارے کو مالی یا انتظامی تعاون کی ضرورت ہو تو استطاعت کے مطابق اس میں شریک ہونا بھی اسی احساسِ ذمہ داری کا حصہ ہے۔

مثلاً کسی تعلیمی پلیٹ فارم سے ہم مسلسل عربی سیکھ رہے ہوں، اس کی تحریریں پڑھ رہے ہوں، اس کے دروس سن رہے ہوں، لیکن کبھی ایک جملے کا حوصلہ افزا تبصرہ بھی نہ کریں، کبھی اپنی مفید رائے نہ دیں، ادارے کی ضرورتوں میں کبھی شریک نہ ہوں، اور ہر چیز کو اپنا حق سمجھتے رہیں—تو ہمیں اپنے رویے پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ہم علم کے صرف صارف بن کر نہ رہیں؛ علم کے سفر میں اپنا حصہ بھی ڈالیں۔یہی وہ احساس ہے جو طالب علم کو محض ’’فائدہ اٹھانے والے‘‘ سے ’’علمی برادری کا ذمہ دار رکن‘‘ بناتا ہے۔

ہر نیا طریقہ بہتر نہیں ہوتا:
سوشل میڈیا نے ہمارے اندر ’’نیا‘‘ دیکھنے کی خواہش بہت بڑھا دی ہے۔ ہر نئی ویڈیو، ہر نیا کورس، ہر نیا استاد اور ہر نئی تکنیک ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نیا ہونا اور بہتر ہونا ایک ہی چیز نہیں۔ایک طالب علم اگر ہر وقت نئے طریقے کی تلاش میں رہے گا تو وہ کسی ایک طریقے کو اتنا وقت ہی نہیں دے سکے گا کہ اس کے نتائج سامنے آ سکیں۔

اس لیے انتخاب کے بعد کچھ عرصے کے لیے استقامت ضروری ہے۔ اگر راستہ درست ہے تو اس پر چلتے رہیے۔ مشکل آئے تو فوراً راستہ نہ بدلیے۔ پہلے دیکھیے کہ مشکل راستے کی ہے یا آپ کی رفتار اور محنت کی۔

تنقید سے پہلے اپنا محاسبہ:
علمی دنیا میں تنقید کی اپنی جگہ بڑی اہمیت ہے۔ اچھے ادارے اور اچھے اساتذہ بھی تنقید اور اصلاح سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لیکن تنقید اس وقت تعمیری ہوتی ہے جب اس کے پیچھے علم، تجربہ، انصاف اور خیر خواہی ہو۔اگر ہم نے خود محنت نہیں کی، تسلسل نہیں رکھا، مشق نہیں کی، استاد سے صحیح استفادہ نہیں کیا اور پھر ناکامی کا سارا بوجھ استاد یا ادارے پر ڈال دیا تو یہ انصاف نہیں۔اپنی کمزوری کا اعتراف طالب علم کو چھوٹا نہیں کرتا؛ بلکہ اسے آگے بڑھنے کا موقع دیتا ہے۔

رائد، رائدات، سفراء اور سفیرات کے نام:
جو نوجوان عربی زبان سیکھ رہے ہیں اور اسے آگے پہنچانے کا عزم رکھتے ہیں، ان کے لیے اس پورے معاملے میں ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ وہ صرف زبان کے طالب علم نہیں، بلکہ مستقبل کے معلم، مترجم، مصنف، داعی اور سفیر بھی بن سکتے ہیں۔اس لیے انہیں علم کے ساتھ علمی اخلاق بھی سیکھنے ہوں گے۔استاد کا ادب، اختلاف کا سلیقہ، مستقل مزاجی، محنت، وقت کی قدر، علمی دیانت اور تعاون—یہ سب زبان سیکھنے کا حصہ ہیں۔عربی کا سفر مختصر راستہ نہیں۔ اس میں رفتار سے زیادہ سمت اہم ہے، اور نئے راستے تلاش کرنے سے زیادہ ایک درست راستے پر ثابت قدم رہنا اہم ہے۔

آخر میں شاید ہر عربی سیکھنے والے کو اپنے آپ سے صرف تین سوال کرنے چاہییں:

میں کس سے سیکھ رہا ہوں؟

میں سیکھنے میں کتنا سنجیدہ اور مستقل ہوں؟

اور جس سے میں لے رہا ہوں، اسے میں دے کیا رہا ہوں؟

اگر ان تین سوالوں کے جواب ہم نے دیانت داری سے تلاش کر لیے تو شاید ہماری بہت سی الجھنیں خود بخود دور ہو جائیں۔

تلاش ضرور کیجیے، مگر تلاش کو منزل نہ بنائیے۔

استاد ضرور بدلیے، اگر واقعی ضرورت ہو، مگر ہر مشکل پر استاد نہ بدلیے۔

نیا ضرور دیکھیے، مگر پرانے کو سمجھے بغیر نئے کے پیچھے نہ بھاگیے۔

اور علم ضرور لیجیے، مگر یہ بھی سوچیے کہ علم کے اس سفر میں آپ کا اپنا حصہ کیا ہے۔

کیونکہ آخرکار تلاش بہت سے راستے دکھاتی ہے، لیکن تسلسل ہی کسی ایک راستے کو منزل تک پہنچاتا ہے۔

کالم نگار : مولاناسمیع اللہ عزیز
| | |
10