(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمدعارف بلوچ

محمدعارف بلوچ

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/24
موضوعات
غزالیِ سرحد، شیخ المشائخ، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المنان
تعارف، نام و نسب اور ولادت:
شیخ الحدیث، حضرت مولانا عبد المنان صاحب دامت برکاتہم العالیہ، ۲۳ اکتوبر ۱۹۳۰ء، بروز جمعہ شب، اولئی لاچی، ضلع کوہاٹ میں مولوی جنت خان صاحب کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کی ذاتِ گرامی علم و عمل، درس و تدریس، سلوک و تصوف، تواضع و استغنا اور اتباعِ سنت کا حسین مرقع ہے۔ نصف صدی سے زائد عرصے تک آپ نے علومِ نبوت کی تدریس، تشنگانِ علم کی سیرابی اور اصلاحِ نفوس کا فریضہ انجام دیا اور سرزمینِ کوہاٹ کو اپنے علمی و روحانی فیوض سے مالا مال فرمایا۔

ابتدائی تعلیم:
آپ کے والدِ محترم نے آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت کے لیے آپ کو مولانا رسول شاہ عرف ’’ڈھوڈے استاد‘‘ کے پاس لے گئے، جہاں آپ نے **منیۃ المصلی** پڑھی۔ اس کے بعد آپ نے مستقل تعلیم کے حصول کے لیے کوہاٹ میں حضرت مولانا شیر خان صاحب رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضری دی۔ حضرت نے بوقتِ تہجد دو رکعت نماز پڑھانے کے بعد آپ کو علمِ صرف کی تعلیم کا آغاز کرایا۔

بعد ازاں اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے آپ نے **انجمن تعلیم القرآن، محلہ پراچہ گان** کا رخ کیا، جہاں موقوف علیہ تک تعلیم حاصل کی۔ مشکوٰۃ شریف حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب رحمہ اللہ سے پڑھی۔ بالآخر ۱۹۵۴ء میں اپنے شیخ و مرشد، شیخ الحدیث حضرت مولانا نصیر الدین غورغشتوی رحمہ اللہ سے صحاحِ ستہ مکمل پڑھ کر سندِ فراغت حاصل کی۔

آپ نے جن جلیل القدر اساتذہ سے علومِ دینیہ کی تحصیل کی، ان میں بالخصوص یہ حضرات شامل ہیں:

۱۔ شيخ الحديث حضرت مولانا صدر عبدالغفار صاحب رحمہ اللہ،۲۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب رحمہ اللہ۳۔ حضرت مولانا فضل الرحمن سورزئی صاحب رحمہ اللہ۴۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا نصیر الدین غورغشتوی رحمہ اللہ

تدریسی خدمات:
حضرت شیخ دامت برکاتہم العالیہ نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز ۱۹۵۵ء میں اپنی مادرِ علمی **دارالعلوم انجمن تعلیم القرآن، پراچہ ٹاؤن** سے فرمایا اور تاحال اسی گلشنِ علم کی آبیاری میں مصروف رہے۔ ۱۹۷۱ء تک مختلف علوم و فنون کی تدریس فرماتے رہے۔ ۱۹۷۱ء میں شیخ الحدیث حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب رحمہ اللہ کے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے بعد آپ کو منصبِ شیخ الحدیث پر فائز کیا گیا، جس پر آپ نے تقریباً پچپن سال تک نہایت شان اور وقار کے ساتھ فریضۂ تدریس انجام دیا۔

بیماری اور ضعفِ جسمانی کے باعث گزشتہ چند سالوں سے آپ صرف **شمائل ترمذی** اور **جلالین** کا درس دیتے رہے۔ امسال طبیعت کی ناسازی کے سبب باقاعدہ درس نہ دے سکے، تاہم شوقِ علم اور ولولۂ تدریس کا عالم یہ تھا کہ کبھی کبھی نمازِ ظہر کے بعد جلالین کی چند سطریں طلبہ کو پڑھا دیتے اور طلبۂ کرام ان کے علمی افادات سے فیض یاب ہوتے رہتے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت شیخ کو علوم و فنون میں غیر معمولی دسترس عطا فرمائی تھی۔ علمِ نحو و صرف کی ابتدائی کتابیں آپ نے زمانۂ طالب علمی ہی میں زبانی یاد کرلی تھیں۔ علمِ نحو کا عظیم الشان متن **کافیہ** بھی آپ کو ازبر تھا۔ شرحِ ملا جامی اور مختصر المعانی کی تدریس میں آپ کو خصوصی امتیاز حاصل تھا۔ دور دراز علاقوں سے طلبۂ علم آپ کے درس میں شرکت کے لیے آتے تھے۔

حضرت کا اندازِ تدریس انتہائی مؤثر، پُرجوش اور دل نشیں تھا۔ مشکل سے مشکل علمی مباحث اور دقیق مسائل کو اس سلاست و سہولت کے ساتھ بیان فرماتے کہ کم فہم طالب علم بھی انہیں بآسانی سمجھ لیتا۔ آپ کے درس میں علم کی گہرائی کے ساتھ شگفتگی، دلائل کے ساتھ حکمت اور تحقیق کے ساتھ تربیت کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔

علومِ قرآن و حدیث میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی ملکہ عطا فرمایا تھا۔ آپ کا درسِ بخاری اپنے عہد میں ایک ممتاز مقام رکھتا تھا، جبکہ تعطیلات کے دوران **دورۂ تفسیر القرآن** اپنی نوعیت میں بے مثال ہوتا۔ کسی ایک مسئلے پر بھی اگر گفتگو شروع ہوجاتی تو آپ گھنٹوں اس کے علمی، فقہی اور اصولی پہلوؤں پر گفتگو فرماتے، اور اہلِ علم آپ کی علمی وسعت اور استحضارِ مسائل سے حیران رہ جاتے۔

علوِ سند:
وہ امتیاز جو حضرت شیخ دامت برکاتہم العالیہ کو اپنے معاصرین میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے، وہ آپ کا **علوِ سند** بھی ہے۔ حضرت کی سندِ حدیث صرف تین واسطوں سے حضرت شاہ اسحاق رحمہ اللہ تک پہنچتی ہے:

۱۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا نصیر الدین غورغشتوی رحمہ اللہ۲۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا قمر الدین صاحب رحمہ اللہ۳۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا احمد علی سہارنپوری رحمہ اللہ

اسی علوِ سند کی وجہ سے دور دراز علاقوں سے علماءِ کرام اجازتِ حدیث کے حصول کے لیے حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے ہیں۔ اہلِ کوہاٹ کے لیے یہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے کہ علمِ حدیث کی یہ قیمتی اور بابرکت سند انہیں اپنے ہی شہر میں میسر ہے۔

مراحلِ سلوک و اصلاح:
حضرت شیخ دامت برکاتہم العالیہ کے پہلے شیخ و مرشد، شیخ الحدیث حضرت مولانا نصیر الدین غورغشتوی رحمہ اللہ تھے۔ ان کی وفات کے بعد تکمیلِ سلوک کے لیے آپ نے شیخ المشائخ حضرت مولانا عبدالسلام پیر سباق صاحب رحمہ اللہ سے استفادہ فرمایا، جو صاحبِ کشف و کرامت بزرگ اور حضرت مولانا نصیر الدین غورغشتوی رحمہ اللہ کے نہایت معتقدین میں شمار ہوتے تھے۔

حضرت مولانا عبدالسلام پیر سباق صاحب رحمہ اللہ، حضرت مولانا نصیر الدین غورغشتوی رحمہ اللہ کے مزارِ اقدس کے انوار و برکات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ جب میں وہاں مراقبہ کرتا ہوں تو قبرِ مبارک پر اس قدر انوار کا نزول محسوس ہوتا ہے کہ قبرِ شریف لباسِ انوار میں مستور ہوجاتی ہے۔

حضرت شیخ زکریا رحمہ اللہ سے ملاقات و اجازتِ حدیث:
حضرت شیخ دامت برکاتہم العالیہ نے ۱۹۷۸ء میں پہلی مرتبہ حج و عمرہ کی سعادت حاصل کی۔ اس کے بعد ۲۰۰۷ء میں عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی، جبکہ آخری حج کی سعادت ۲۰۱۵ء میں حاصل ہوئی۔ دورانِ سفرِ حج آپ کو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا اور آپ نے ان سے اجازتِ حدیث بھی حاصل کی۔

مجلسِ مراقبہ:
حضرت شیخ دامت برکاتہم العالیہ ہر اتوار بعد نمازِ مغرب دارالعلوم انجمن تعلیم القرآن کے طلبۂ کرام کے لیے مجلسِ مراقبہ منعقد فرمایا کرتے تھے۔ اس مراقبے کا موضوع **﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ﴾** کے مفہوم کے مطابق اللہ تعالیٰ کی معیت، نگرانی اور تعلقِ قلبی کو مضبوط کرنا تھا۔

مراقبے سے قبل حضرت اصلاحی بیان بھی فرمایا کرتے تھے۔ ان مجالس میں کہے گئے اصلاحی کلمات بعد ازاں **’’المقالات فی أوائل المراقبات‘‘** کے نام سے مرتب ہوئے اور ’’صدائے دل‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ یہ مجالس حضرت کے علمی ذوق، روحانی تربیت اور اصلاحی فکر کی ایک خوب صورت یادگار ہیں۔

افسوس کہ گزشتہ کچھ عرصے سے حضرت کی طبیعت کی ناسازی کے باعث مجلسِ مراقبہ کا یہ بابرکت سلسلہ منقطع ہوچکا ہے۔

اتباعِ سنت، تواضع اور استغنا:
حضرت شیخ دامت برکاتہم العالیہ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو **اتباعِ سنت، تواضع، استغنا اور خوفِ خدا** ہے۔ ان کی زندگی محض علوم و فنون کے درس تک محدود نہیں، بلکہ وہ علم کو عمل، اور عمل کو اخلاص و احسان سے مربوط کرنے والے بزرگ ہیں۔

ایک مرتبہ حضرت نے فرمایا:

**’’اگر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پوچھے: عبد المنان! کیا لے کر آئے ہو؟ تو میں عرض کروں گا: اے میرے مولا! تیرے فضل کی امید لے کر آیا ہوں۔‘‘**

حضرت طلبۂ کرام کو بھی یہی نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ تم بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے اعمال پر ناز کرنے کے بجائے اس کے فضل و کرم کی امید لے کر حاضر ہونا۔

طلبۂ کرام سے حضرت کی محبت بے مثال ہے۔ آج تک کسی طالب علم سے ہدیہ قبول نہیں فرمایا، بلکہ طلبہ کی خدمت اور ان کا اکرام آپ کی مستقل عادت رہی ہے۔ مہمانوں کی خاطر مدارت کا بھی یہ عالم تھا کہ ان کے قیام و طعام کی خود نگرانی فرماتے۔ حضرت کا دروازہ ہر وقت اہلِ ملاقات کے لیے کھلا رہتا۔ اپنی زندگی میں کبھی ملاقات کے لیے کوئی مخصوص وقت مقرر نہیں فرمایا؛ جو شخص جس وقت حاضر ہوا، اپنی قیمتی مصروفیات میں سے اس کے لیے وقت نکالا۔

مہمان نوازی اور اتباعِ سنت کا ایک ایمان افروز واقعہ:
حضرت کی مہمان نوازی اور اتباعِ سنت کا ایک واقعہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔

ایک مرتبہ کراچی سے ایک وفد خیبر پختونخوا کے دورے پر آرہا تھا، جس میں شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ بھی تشریف فرما تھے۔ وفد نے حضرت شیخ عبد المنان دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ جب حضرت کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فوراً گاڑی منگوائی اور مہمانوں کے استقبال کے لیے کرک تک خود تشریف لے گئے۔

حضرت نے فرمایا:

**’’یہ اللہ کے نبی ﷺ کی سنت ہے کہ مہمانوں کے استقبال کے لیے باہر نکلا جائے۔‘‘**

مہمانوں سے ملاقات ہوئی۔ حضرت انہیں اپنے ساتھ کوہاٹ لانا چاہتے تھے، لیکن وفد نے معذرت کرلی۔ اس موقع پر حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ نے فرمایا:

**’’جس غرض سے ہم ملاقات کرنا چاہتے تھے، وہ پوری ہوگئی۔ ہم نے حضرت کے بارے میں سنا تھا کہ وہ انتہائی متبعِ سنت ہیں، آج ہم نے اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کرلیا۔‘‘**

حضرت شیخ کی پوری زندگی اتباعِ سنت، اکرامِ مسلم، مہمان نوازی اور حسنِ اخلاق کے ایسے بے شمار واقعات سے عبارت ہے کہ اگر انہیں قلم بند کرنے بیٹھا جائے تو بڑے بڑے دفتر بھی کم پڑ جائیں۔

تلامذہ:
حضرت شیخ دامت برکاتہم العالیہ سے ہزاروں تشنگانِ علومِ نبوت نے کسبِ فیض کیا۔ آپ کے تلامذہ نے مختلف علاقوں میں دینی مدارس قائم کیے، تدریس و افتا کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور دعوت و اصلاح کے میدان میں خدمات انجام دیں۔آپ کے مشہور تلامذہ میں چند نام بطورِ نمونہ درج ذیل ہیں:

۱۔ شیخ الحدیث مفتی اجمل صاحب، کرک۔۲۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا عین اللہ صاحب۔۳۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عفیف صاحب۔۴۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا اصیل بادشاہ صاحب۔۵۔ حضرت شیخ کے فرزند، حافظ عطاء المنان صاحب، جو آپ کی مسندِ تدریس اور مسندِ سلوک کے جانشین ہیں۔۶۔ حضرت مولانا عبدالوھاب صاحب مرحوم، چونترہ، کرک۔۷۔ شیخ الحدیث مفتی سردار صاحب۔۸۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد امین اورکزئی شہید رحمہ اللہ، شاہو۔۹۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا مطیع اللہ فریدی صاحب دامت برکاتہم۔۱۰-حضر‍ت مولانا مفتی فقير کليم الله نقشبندي صاحب دامت برکاتهم العاليه

یہ چند نام محض **مشتے از خروارے** کے طور پر پیش کیے گئے ہیں، ورنہ حضرت کے فیض یافتگان کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے، جو ملک کے مختلف خطوں میں دینِ متین کی خدمت، اشاعتِ علم، دعوت و اصلاح اور تعلیم و تربیت میں مصروفِ عمل ہیں۔

ایک روشن علمی و روحانی میراث:
حضرت مولانا عبد المنان دامت برکاتہم العالیہ کی حیاتِ مبارکہ کو دیکھا جائے تو اس میں ایک طرف علومِ نبوت کی گہری غواصی، درس و تدریس کی نصف صدی سے زائد کی تابانی اور حدیث و تفسیر کی مجالس کی علمی شان نظر آتی ہے، تو دوسری طرف سلوک و احسان کی پاکیزہ راہ، اتباعِ سنت کی استقامت، تواضع و استغنا کی دل آویزی، مہمان نوازی کی وسعت اور طلبۂ کرام سے والہانہ محبت جلوہ گر ہے۔

یہی وہ جامعیت ہے جس نے حضرت کو محض ایک مدرس نہیں بلکہ **معمارِ نسل، مربیِ نفوس، شیخِ طریقت، محدثِ جلیل اور غزالیِ سرحد** کا مقام عطا کیا۔ آپ نے اپنے درس گاہ کے حجرے سے علم کی شمعیں روشن کیں اور ان شمعوں سے ہزاروں چراغ روشن ہوئے۔ آپ کی علمی و روحانی خدمات دراصل سرزمینِ کوہاٹ کی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں، اور اہلِ کوہاٹ کے لیے آپ کی ذاتِ گرامی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور علمی و روحانی سرمایہ ہے۔

اللہ تعالیٰ حضرت شیخ دامت برکاتہم العالیہ کا سایۂ عاطفت و شفقت اہلِ کوہاٹ اور طالبانِ علم و اصلاح پر تادیر قائم رکھے، انہیں صحت و عافیت عطا فرمائے، آپ کے علم و فیض کو مزید عام فرمائے، آپ کے تلامذہ و خلفاء کو آپ کی علمی و روحانی میراث کا سچا امین بنائے اور ہمیں آپ کی قدر شناسی، صحبت اور فیض سے بہرہ مند فرمائے۔

کالم نگار : محمدعارف بلوچ
| | |
39