ايك نقطہ كا فرق
بچوں كي كہانياں
 
 
 
 

ايک لوموي صاحب نے تقرير کے دوران مسئلہ بيان کيا جو لوگ داڑھي منڈاتے ھيں يا ايک مٹھي سے کم کرتے ہيں، تو وہ اعلانيہ گناہ کے مرتکب ہونے کي بنا پر فاسق ہيں۔
ايک نمازي کو اس پر غصہ آيا اور ايک بڑے عالم بزرگ کےپاس جا کر شکايات کي جناب ہم تو نماز پڑھتے ہيں، روزہ رکھتے ہيں، حج کرلئے کبھي عمرہ کيلئے بھي چلے گئے تھے، بس داڑھي منڈاتے ہيں، پھر فلاں مولوي صاحب نے ہميں فاسق بناديا۔
اس بزرگ نے فرمايا کہ بھئي اس مولوي صاحب پر غصہ آنے کي وجہ يہ ہے کہ آپ نے ت کا ايک نقطہ گراديا ہے مولوي صاحب فاسق بناتے ہيں، حالانکہ مولوي تو کسي کو فاسق نہيں بناتے ان کا کام تو يہي ہے کہ اب فاسق بن گئے ہيں تو توبہ کرليں۔
ان کا تو آپ پر احسان ہے کہ آپ کو بتاديا کہ آپ فاسق بن گئے ہيں، اس حالت ميں آپ کا انتقال ہوجائے تو ساري نکييوں کے باوجود داڑھي منڈوانے يا کٹوانے کي وجہ سے فاسق کي موت مريں گے روز قيامت جب حوض کوثر پر آپ جائيں گے تو جناب بني کريم صلي اللہ عليہ وسلم کے چہرہ مبارک پر توداڑھي ہوگي اور آپ کا چہرہ داڑہي سے خالي اس وقت افسوس کے سوا کوئي راستہ نہ ہوگا، اس لئے مولوي صاحب کا احسان مانئيے توبہ کيجئے تب جا کر ان کا غصہ اترا۔
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ لوگوں کي سوچ الٹي ہوگئي ہے، يہ دراصل گناہ کا وبال ہے کوئي حق بات کہے تو اس کو قبول کرنے کيلئے تيار نہيں بلکہ حق بتانے والے کو بے وقوف سمجھا جاتا ہے اور طرح طرح سے اس کي عيب جوئي کي جاتي ہے، جناب ہم تو پارسا ھيں متقي ہيں پرہيز گار ہيں، ياد رکھئيے جب تک ايک گناہ ميں بھي مبتلا رھيں گے، اس وقت تک متقي نھيں بن سکتے جيسا کھ جب تک کسي ايک بيماري ميں بھي مبتلا ھو اس کو تندرست نہيں کہا جاسکتا ہے، اسي طرح جب تک تمام ظاہر و باطني گناہوں کو نہيں چھوڑيں گے اس وقت تک متقي پرہيز گار نہيں کہلائے جاسکتے ہيں، اللہ تعالي سمجھ نصيب فرمائے۔

 
  Back