|
||||||
| کفار سے مشابہت | ||||||
| حضرت شيخ الحديث مولانا زکريا صاحب رحمہ اللہ اپني آپ بيتي ميں تحرير فرماتے ہیں کہ اپنے بچپن ميں اپنے سارے گھرانے میں بلکہ خاندان میں يہ معمول ديکھا کہ ہولي ہندوئوں کي ايک رسم کے دنوں ميں رنگا ہوا کپڑا نہیں پہنا جاتا تھا سرخ رنگ سے بچنے کا نہايت ہي اتہمام ديکھا تھا اب تو وہ اتہمام نہيں ديکھ رہا ہوں۔ ايک مرتبہ اپنے بچپن ميں گھر کي عورتوں سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ ہولي کے دنوں ميں ، ميں پان کھا رہا تھاايک مريل سا گدھا سامنے سے جا رہا تھا ميں نے پان کي پيک اس پر تھوک کر مذاقا کہہ ديا تھا آج ساري دنيا رنگي ہوئي ہے تجھے کسي نے نہ رنگا ميں ہي رنگ دوں۔ يہ قصہ اور خواب ہمارے ہاں بچپن کے زمانے ميں ہي مشہور تھا بوڑھياں بہت ہي اہتمام سے دلہنوں اور نو عمر لڑکيوں کو سنايا کرتي تھيں۔ اس واقعہ سے يہ عبرت حاصل ہوئي کہ کسي کي مشابہت بھي بسا اوقات عذاب کا سبب بن جاتي ہے بلکہ حديث شريف ميں آيا ہے کہ جس نے کسي قوم کفار و مشرکين کي مشابہت اختيار کي تو وہ انہیں ميں سے شمار ہوگا۔ |
||||||
|
||||||